سائیٹ خصوصی مقالات شیعہ شناسی

رکن صارفین:



اسم صارف

(برقی پتہ):

کلمۂ عبور:

مجھے یاد رکھیں

کلمہ عبور یاد دلائیں

رکنیت کی خصوصیات

تلاش

جستجوی مختصر

ايمان کي علامتيں گناہ انجام نہ دينا ، خدا سے ڈرنا ، بندگان خدا کے ساتھ اچھا برتاو کرنا ، دشمنان خدا کے ساتھ سختي اور دشمني سے پیش آنا ، مومنوں کے چھوٹے موٹے اختلافات کو نظر انداز کر دينا وغيرہ ہيں ۔
در حقيقت ، ايمان اگر محبت و خلوص جيسے رابطوں سے عاري ہو تو اس کي کوئي حيثيت نہيں ہے ۔يہ محبت ہي ہے جو ميدان عمل ميں ايمان کو اہميت و ارزش بخشتي ہے ۔ محبت و خلوص کے بغير کسي تحريک کو آگے نہيں بڑھايا جا سکتا ۔ اسلامي نقطہ نظر سے عشق و محبت کا عالي ترين عنوان '' محبت اہلبيت ‘‘ ہمارے پاس ہے ۔ اس محبت کا عروج ہميں کربلا ميں روز عاشورا ديکھنے کو ملا کہ چند افراد پر مشتمل ايک گروہ نے تاريخ و تمدن تشيع کي ايک ايسي بنياد ڈالي کہ آج بھي اس تاريخ و تمدن کے نقوش روز بروز روشن ہوتے جا رہے ہيں ۔  [مزید متن]

عصمت ِانبیا

مصنف:

موضوع:

تاريخ:

اپنے مقام پر علم کلام میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسانیت کی ہدا یت اور راہنمائی کے لیے عقلِ انسانی کا فی نہیں ہے بلکہ وحی الہیٰ ضروری ہے جب وحی کا ضروری ہو نا ثابت ہو تو اس وحی کو محفوظ رکھنا بھی اتنا ہی ضروری اور لازم ہے ،جتنا خود وحی کا ہونا ضروری ہے ۔کیونکہ اگر وحی کی ضرور ت ثابت ہو مگر وہ اپنی حقیقی شکل میں محفوظ نہ ہو تو پھر اس کی ضرورت بھی خدشہ دار ہو جائے گی ۔
اور یہ با ت ہر شخص پر واضح اور معلوم ہے کہ ایک عام انسان وحیِ الہیٰ سے استفادہ نہیں کر سکتا اور وحی کو دریافت کرنے کے لیے ایک خاص قسم کی لیاقت واستعداد چاہیے یعنی چند مخصوص افراد کے ذریعے وحی الہیٰ کے پیغامات کو لو گوں تک پہنچا یا جا سکتا ہے ۔لیکن ان پیغامات کے صحیح ہو نے کی کیا ضمانت ہے ؟  [مزید متن]

سب سے پہلے خدا کی عبادت اُس کی معرفت ہے اور خدا کی اصل معرفت اُس کی توحید ہے۔ اُس کی توحید کا کمال اس میں ہے کہ صفات(زائد بر ذات) کی نفی کی جائے کیونکہ عقلیں گواہیں دیتی ہیں کہ ہر صفت اور ہر موصوف اُس کی مخلوق ہے۔ ہر موصوف گواہی دیتا ہے کہ اُس کا کوئی خالق ہے۔ جو اس طرح کی صفت نہیں رکھتا۔ اس طرح کی صفت کے ساتھ موصوف نہیں ہے۔ ہر صفت و موصوف ایک دوسرے کے ساتھ ارتباط کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ ارتباط گواہی دیتا ہے اُس کے حدوث کے متعلق اور حدوث کسی کے ازلی نہ ہونے کی گواہی دیتا ہے کیونکہ کسی حادث شے کا ازلی ہونا محال ہے۔پس جس نے خد اکو تشبیہ کے ساتھ جاننے کی کوشش کی تو اُس نے کچھ نہ جانا۔ جو خدا کو اُس کی حقیقت کے ساتھ جاننا چاہے، اُس نے خدا کو ایک نہیں جانا۔ جو کوئی خدا کیلئے مثال پیش کرے، وہ خدا کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ جو اُس کی عنایت کا تصور کرے، اُس نے اُس کی تصدیق نہیں کی۔ جس نے اُس کی طرف اشارہ کیا، اُس نے اُس کا ارادہ نہیں کیا۔ جس نے اُس کی کسی چیز کے ساتھ تشبیہ کی، اُس نے اُس کا قصد نہیں کیا۔ جو کوئی اُس کی جزیت کا قائل ہوا، وہ اُس کیلئے ذلیل و خوار نہ ہوا۔جو کوئی اُس کو وہم وخیال میں لائے، اُس نے اُس کا ارادہ نہیں کیا۔ جو خود بخود پہچانا جائے، وہ مصنوع ہے اور بنا ہوا ہے۔ جو کسی دوسرے کی وجہ سے قائم ہو ، وہ معلول ہے۔ اُس کے وجود اور خلقت کیلئے دلیل لائی جائے۔ عقل کے ذریعے اُس کی معرفت کیلئے راہ تلاش کی جائے اور حجت ِ خدا ہر ایک کی فطرت میں موجود ہے۔  [مزید متن]

اگر قرآن سید الکلام ہے (١)تو امام حسین سید الشہداء ہیں(٢)

ہم قرآن کے سلسلے میں پڑھتے ہیں، ''میزان القسط''(٣)تو امام حسین فرماتے ہیں،''امرت بالقسط''(٤)

اگر قرآن پروردگار عالم کا موعظہ ہے،''موعظة من ربکم''(٥)تو امام حسین نے روز عاشورا فرمایا''لا تعجلوا حتیٰ اعظکم بالحق''(٦)(جلدی نہ کرو تاکہ تم کو حق کی نصیحت و موعظہ کروں)

اگر قرآن لوگوں کو رشد کی طرف ہدایت کرتا ہے، ''یھدی الی الرشد''(٧)تو امام حسین نے بھی فرمایا،''ادعوکم الی سبیل الرشاد''(٨)(میں تم کو راہ راست کی طرف ہدایت کرتاہوں)  [مزید متن]

تاريخ كي تعريف تين طرح سے ہو سكتي ہے۔درحقيقت تاريخ سے متعلق تين ايسے علوم ہونے چاہيں جو ايك دوسرے سے قريبي تعلق ركھتے ہوں۔ زمانہ حال ميں موجود حالات و كيفيات كے بجائے گذرے ہوئے انسانوں كے اوضاع اور احوال اور بيتے ہوئے حادثات كا علم، ہر وہ كيفيت، ہر وہ حالت، ہر وہ واقعہ و حادثہ جس كا تعلق زمانہ حال سے ہو يعني اس زمانے سے ہو كہ جس ميں ابھي اس پر گفتگو چل رہي ہو، "آج كا واقعہ" اور "آج كا حادثہ" ہوگا اور جب يہ قيد تحرير ميں آجائے گا تو "روزآنہ" كہلائے گا۔ ليكن جونہي اس كي تازگي ختم ہوجائے گي اور وقت كي طنابيں كھينچ جائيں گى، يہ تاريخ كا حصہ بن جائے گا۔ پس اس مفہوم ميں علم تاريخ ان حادثات، واقعات اور ان افراد كے حالات و كيفيات پر مبني علم ہے جو گذشتہ سے اپنا رشتہ جوڑ چكے ہيں وہ تمام سوانح عمرياں، ظفرنامے اور سيرتوں پر مشتمل كتابيں جو ہر قوم ميں تاليف ہوئي ہيں اور ہو رہي ہيں، اسي ضمن ميں آتي ہيں ۔  [مزید متن]

[ مزید مقالات ]

سب سے زیادہ

مقالات بیشترین

تقوبم

تازہ پیغام :

امام جواد (ع) فرماتے ہیں کہ جس نے میری پھوپھی کی زیارت قم میں کی اس کے لئے جنت ہے ۔ (کامل الزیارات،ص/۳۲۴)

دیگر زبانیں:

رائے شماری:

New Page 1

اس مقالات سائیٹ کے بارے میں اپنی رائے دیں؟

زبردست ہے۔
بہت اچھی ہے۔
اچھی ہے۔

بس ٹھیک ہے۔

    

عدادو شمار:

. تعداد مناظر : 95014

. بازدید کل زبان ها : 321162

. بازدید کل سایت ها : 360768

. آج کا دورہ : 249

. بازدید امروز کل زبان ها : 1318

. بازدید امروز کل سایت ها : 1369

. آج کے اعدادو شمار : 263043

. آن لائن صارفین : 13

. سائیٹ اراکین کی تعداد : 30

. کل مقالات کی تعداد : 725

 

دیگر سائیٹ:

سائٹ کاپتہ: